کراچی (ویب ڈیسک) — 13 جولائی 2026
کراچی کے علاقے کیماڑی میں توہینِ مذہب کے مبینہ الزام کے بعد پیدا ہونے والی انتہائی کشیدہ صورتحال کو اپنی فہم و فراست اور جرات سے قابو کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کیماڑی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سنگھار ملک کو زبردست خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 9 جولائی کو کراچی کے ساحلی علاقے میں اس وقت شدید تناؤ پھیل گیا جب ایک مشتعل ہجوم نے ایک مقامی مسیحی خاندان کے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ اس انتہائی حساس اور نازک موقع پر ایس ایس پی سنگھار ملک نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے خود ہجوم کا سامنا کیا اور انتہائی سٹریٹجک انداز میں مظاہرین کو پرامن رہنے پر قائل کیا۔
انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایس ایس پی کیماڑی بپھرے ہوئے ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر ان کے جذبات کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “ضلع کیماڑی کے ایس ایس پی کی حیثیت سے، میں آپ کے جذبات اور احساسات کا ضامن ہوں، اور میں اس علاقے کے امن و امان اور سلامتی کا بھی ضامن ہوں۔” انہوں نے ہجوم کو قرآنِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ کسی بھی خبر یا معلومات کی تصدیق کرنا اتنا ہی ضروری اور فرض ہے جتنا کہ ایک مسلمان کے لیے ایمان لانا ضروری ہے۔ ان کے اس مدبرانہ اور دلیرانہ انداز نے مشتعل افراد کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل کا ایک سیلاب آ گیا ہے اور لوگ توہینِ مذہب جیسے حساس معاملے پر اتنے چارجڈ ہجوم کا سامنا کرنے پر پولیس افسر کی بہادری کی داد دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ “ایسے جذباتی ہجوم کا سامنا کرنے کے لیے بہت جگر چاہیے ہوتا ہے، ایس ایس پی نے اس مشکل صورتحال کو بہترین طریقے سے سنبھالا۔” کئی صارفین نے اس واقعے کا موازنہ 2024 میں لاہور کے اچھرہ بازار میں ہونے والے واقعے سے کیا، جہاں اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی نے اسی طرح ایک خاتون کو مشتعل ہجوم سے بحفاظت ریسکیو کیا تھا، اور کہا کہ ایسے نڈر افسران ہی معاشرے میں امن کی اصل امید ہیں۔
