کوئٹہ (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام اور فتنۃ الخوارج کے مسلح نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے لیے پاک فوج، فرنٹیر کانسٹیبلری (FC) اور پولیس کا مشترکہ ’آپریشن شعبان‘ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران فورسز کی انتہائی مؤثر زمینی اور فضائی کارروائیوں میں مزید 5 خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ اس تازہ ترین کامیابی کے بعد صرف ‘آپریشن شعبان’ کے تحت ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 76 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ صوبے کے مختلف حصوں میں جاری اس بڑی عسکری مہم میں خوارجیوں کو اب تک کا سب سے شدید جانی اور تزویراتی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ڈیٹا کے مطابق، 5 جولائی 2026 سے شروع ہونے والے اس مشترکہ آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں اب تک مجموعی طور پر 114 خوارجی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جبکہ ان کے متعدد خفیہ ٹھکانے اور اسلحے کے گودام بھی مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ جنگ صوبے سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی تاکہ بلوچستان کی دھرتی کو ان شرپسند عناصر سے ہمیشہ کے لیے پاک کیا جا سکے۔
دریں اثنا، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں جاری اس کامیاب ترین آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر فتنۃ الہندوستان کے درندوں کو عبرت کا نشان بنایا ہے جو بلوچستان کا امن تباہ کرنے کے درپے تھے۔ وزیرِ داخلہ نے واضح کیا کہ 114 دہشت گردوں کی ہلاکت ہماری فورسز کی الرٹ پوزیشن اور اعلیٰ حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اور معصوم پاکستانیوں کا خون بہانے والے یہ سفاک قاتل کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
