انقرہ (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
یورپ جانے کے خواہش مند تارکینِ وطن کی سب سے بڑی گزرگاہ ‘ترکیہ’ میں انسانی اسمگلرز اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اور سخت ترین آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ترکیہ کی سیکیورٹی فورسز اور کوسٹ گارڈز کے مشترکہ ہنگامی آپریشنز کے دوران گرفتار ہونے والے افراد میں افغان شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور داخلی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کریک ڈاؤن کا یہ سلسلہ مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن مینجمنٹ (محکمۂ ہجرت) کی جانب سے جاری کردہ سنسنی خیز اور تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، رواں سال 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران ریکارڈ 70 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن کو مختلف شہروں سے حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس سرکاری رپورٹ کے حیران کن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان گرفتار شدگان میں 19 ہزار 574 صرف غیر قانونی افغان مہاجرین شامل ہیں، جبکہ تارکینِ وطن کو سرحد پار کروانے والے 6 ہزار سے زائد عالمی انسانی اسمگلرز کو بھی دھر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب، اقوامِ متحدہ (UN) نے تصدیق کی ہے کہ رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں 13 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو زبردستی ڈی پورٹ (ملک بدر) کیا جا چکا ہے۔
معروف افغان نیوز ایجنسی ‘دی خاما پریس’ اور عالمی مبصرین کے مطابق، افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت جاری شدید معاشی بدحالی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور خواتین پر عائد صنفی پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں افغان باشندے مجبوراً ملک چھوڑ رہے ہیں۔ تاہم، ان مہاجرین کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے بین الاقوامی جرائم میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جو اب ترکیہ سمیت تمام میزبان ممالک کے امن و امان کے لیے ایک مستقل اور سنگین تزویراتی خطرہ بن چکے ہیں۔ عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک افغانستان کے اندر انسانی حقوق کی پامالی اور جبر کا موجودہ نظام تبدیل نہیں ہوتا، تب تک یورپ اور ترکیہ کی طرف غیر قانونی ہجرت کا یہ شدید بحران ختم نہیں ہو سکتا۔
