قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے معاملے پر حکومتی بینچوں اور اپوزیشن کے مابین شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ بامعنی مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی اور اپوزیشن کو بھی ٹیبل پر آنے کی دعوت دی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ایمرجنسی لگانا حکومت کی مجبوری تھی کوئی مستقل حل نہیں، اور ملک کی بقا و سلامتی کے لیے تمام جماعتوں کو سیاست ایک طرف رکھ کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے خود اپنے اوپر خودکش حملہ کیا اور صوبائی معاملات کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہنے پر وفاق یا صدر پر الزام تراشی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اس سے قبل اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت شروع ہوا، جس میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں صدر مملکت کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں 3,700 سے زائد دہشت گردی کے واقعات پیش آئے اور صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی و دراندازی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے ہر ممکن لچک دکھائی، لیکن اپوزیشن کی ترجیح قومی سلامتی کے بجائے اپنے قائد کو جیل میں ریلیف دلوانے تک محدود رہی۔
دوسری جانب قائدِ حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے حکومت کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ وفاق کو زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے آمرانہ ادوار نے ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا اور موجودہ مسائل کا حل بندوق یا ایمرجنسی کے بجائے صرف اور صرف حقیقی جمہوری بات چیت میں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمان کے فلور پر بیٹھ کر تمام تنازعات کا حل نکالا جائے اور گرفتار سیاسی قائدین سے آئینی و بنیادی انسانی حقوق کے مطابق ملاقاتوں کی اجازت دی جائے۔
