یورپ میں پناہ کے متلاشی تارکینِ وطن کی غیر قانونی اور پرخطر سمندری سفر کی کوششیں ایک بار پھر خونی المیے میں بدل گئیں، جہاں ترکیہ کے ساحلی خطے سے یونان کی حدود میں داخل ہونے والی ایک تیز رفتار اسپیڈ بوٹ کو یونانی جزیرے لیسبوس کے کھلے سمندر میں خوفناک حادثہ پیش آ گیا ہے۔ حادثے کے نتیجے میں ایک معصوم شیرخوار بچے اور خاتون سمیت کم از کم 6 افراد سمندر کی بے رحم لہروں کی نذر ہو کر جاں بحق ہو گئے، جبکہ امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد کو بروقت بحفاظت زندہ نکال لیا۔ یونانی کوسٹ گارڈ اور مقامی میڈیا کی جاری کردہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ المناک سانحہ جزیرہ لیسبوس کے جنوب مشرقی ساحل کے قریبی سمندری زون میں اس وقت رونما ہوا جب تارکینِ وطن سے بھری کشتی مخالف سمت سے آنے والی دوسری کشتی سے زوردار طریقے سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں غیر متوازن ہو کر پلٹ گئی اور اس پر سوار تمام افراد گہرے پانی میں ڈوب گئے۔
یونانی میری ٹائم ریسکیو سینٹر نے ہنگامی سگنل ملتے ہی کوسٹ گارڈ کی تیز رفتار گشتی بوٹس اور لائف سیونگ ہیلی کاپٹرز کو جائے حادثہ کی جانب روانہ کیا، جنہوں نے سمندر میں تیرتے اور ڈوبتے ہوئے افراد کو نکالنے کا فوری آپریشن شروع کیا۔ امدادی اہلکاروں نے گہرے سمندر سے چھ لاشیں نکالیں جن میں چار مرد، ایک خاتون اور ایک نوزائیدہ بچہ شامل ہیں، جبکہ ریسکیو کیے گئے 8 زندہ افراد کو شدید صدمے اور ہائپوتھرمیا کی حالت میں فوری طور پر لیسبوس کے مرکزی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان میں شامل خواتین اور بچوں کو ہنگامی طبی امداد دی جا رہی ہے۔ کوسٹ گارڈ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں نے حفاظتی لائف جیکٹس نہیں پہن رکھی تھیں، جس کے باعث کشتی الٹتے ہی وہ گہرے سمندر میں تیزی سے ڈوب گئے، جبکہ تارکینِ وطن کی اصل شہریت کا تعین کرنے کے لیے متعلقہ سفارتی حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب یونانی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کشتی چلانے اور تارکینِ وطن کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرانے کے الزام میں 37 سالہ ترک شہری کو موقع پر ہی گرفتار کر کے اس کے خلاف انسانی اسمگلنگ، غفلت کے باعث ہلاکتوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کے تحت سنگین دفعات میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیش کاروں نے حادثے کی اصل وجوہات، کشتی کی رفتار اور ٹکرانے والی دوسری لانچ کے متعلق تفصیلی تکنیکی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے تاکہ انسانی اسمگلروں کے بین الاقوامی منظم گروہ کا سراغ لگایا جا سکے۔ عالمی انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ بحیرہ ایجین اور بحیرہ روم کے راستے ترکیہ سے یونان پہنچنے کی یہ جان لیوا اسمگلنگ مافیا معصوم خاندانوں سے لاکھوں روپے بٹور کر انہیں خستہ حال کشتیوں پر موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے، جس کے مستقل سدباب کے لیے ترکیہ اور یورپی یونین کے مابین مشترکہ سرحدی تعاون اور سخت قوانین کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔
