تحریر: ثوبیہ علی
کراچی: کراچی نہ سوتا ہے، نہ رکتا ہے، نہ پلٹ کر دیکھتا ہے، سوائے چند پرانی سڑکوں کے، جہاں وقت خود جیسے دھیما پڑ کر کچھ یاد کرنے لگتا ہے۔ فریئر ہال کے پہلو سے بل کھاتی، کلب روڈ کی جانب بہتی سڑک انہی میں سے ایک ہے۔ پرانے درختوں اور باوقار تاریخی عمارتوں سے سجی یہ سڑک نہ جانے کب سے اپنا تاریخی ورثہ اپنی بانہوں میں سمیٹے، وقت کے دھارے پر خاموشی سے چل رہی ہے، جبکہ شہر اس کے پاس سے بھاگتا گزر جاتا ہے۔ یہاں پرانا شہر اب بھی سانس لیتا ہے: کلب روڈ کی محراب دار کھڑکیوں اور برسوں کی دھوپ سہتے پرانے پتھروں میں، ہم سب سے پرانے درختوں کے سائے میں، اور اُن عمارتوں میں جنہوں نے سلطنتوں کو رخصت ہوتے اور نسلوں کو گزرتے دیکھا اور ہر سنی ہوئی کہانی کو خاموشی سے اپنے سینے میں سنبھال رکھا۔ وقت کے اسی دھارے کے ساتھ کلب روڈ پر ذرا آگے بڑھیں تو ایک سادہ سا دروازہ پرانی سیڑھیوں کی جانب کھلتا ہے۔ وقت کو اپنے اندر سموئے یہ سیڑھیاں جب نرمی سے آپ کا ہاتھ تھام کر اوپر لے جاتی ہیں تو سامنے پرانی طرز کا ایک چھوٹا سا دروازہ کھلتا ہے۔ یہ دروازہ اُس پرانی وضع کے مکان کا ہے جسے تھیاکاڈا نے کتابوں اور فن کی خوبصورتی سے سجا کر ایک گھر میں، اور اُس گھر کو ایک ننھے سے تھیٹر میں بدل دیا ہے، جہاں ہر سمت کتابوں، فن اور روشن خیالی کی خوشبو مہکتی ہے۔ یہ تھیاکاڈا ہے، اور یہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔
تھیا کاڈا کے اس ہی چھوٹے سے تھیٹر میں اتوار کی شام جوشندر چگر کی دستاویزی فلم کرونز: اے سیلیبریشن کی پاکستان میں پہلی نمائش ہوئی، اور ایک ننھی سی محفل سجی ۔

ایک ایسے دور میں جب سوشل میڈیا کے حصار میں گھرا انسان زندگی کی دوڑ میں بس سانسیں گنتا بھاگتا چلا جا رہا ہے، جب توجہ کا دامن سمٹ کر ایک انسٹا گرام کی ریل جتنا رہ گیا ہے، تو یہ چھوٹا سا کمرہ ہم سے وہ دنیا مانگتا ہے جو دینا ہم تقریباً بھول چکے ہیں: سکون سے بیٹھنا، فون ایک طرف رکھ دینا، پوری فلم ہم خیال دوستوں کے ساتھ دیکھنا، اور پھر اس پر یوں گفتگو کرنا جیسے خیالات اب بھی اہمیت رکھتے ہوں یہاں مل بیٹھنے والے علم و فن کے قدردان تھے، ہم خیال، آزاد ذہن اور ترقی پسند آوازیں جو فن کی خوبصورتی اور اس کی طاقت پر یقین رکھتی ہیں۔ اُن کا یوں ایک ساتھ بیٹھ کر فلم کو دل سے دیکھنا، خیالات کو ایک لڑی میں پرونا اور پھر اپنے اپنے خیال ایک دوسرے سے بانٹنا، گویا ایک بھولی بسری روایت کو پھر سے زندہ کر رہا تھا۔
تھیاکاڈا کلثوم آفتاب کا خواب ہے، جو پاکستان کی نامور ڈرامہ نگار، شاعرہ، اداکارہ، ہدایتکارہ، استاد اور سماجی کارکن ہیں اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پرفارمنگ آرٹس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بیس برس تک نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں، اس کے دو شعبوں کی سربراہی کی اور پاکستان میں تھیٹر کی پہلی ماسٹر کلاس کا آغاز کیا۔ انہوں نے اسٹانسلاوسکی کی معرکۃ الآرا کتاب این ایکٹر پریپیئرز کا اردو ترجمہ کیا، پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ فیچر فلم تین بہادر میں صداکاری کی، اور ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم آور جیکب کی ہدایات دیں۔ ان کے کام کی بنیاد دو اصولوں پر ہے، اوریجنل مواد اور خود مختاری، اور تھیاکاڈا انہی دونوں کا امین ہے۔ یہ ادارہ خود کو پاکستان کی واحد ایسی فلم اور تھیٹر اکیڈمی قرار دیتا ہے جس کی قیادت ایک خاتون کر رہی ہیں اور جہاں عملی تربیت پر مبنی مشترکہ نصاب پڑھایا جاتا ہے، جہاں طالب علم چھوٹے چھوٹے گروپس کی شکل میں سیکھتے ہیں۔ تھکایاکاڈا کا تازہ ترین منصوبہ، تھیاکاڈا فلم اسکریننگز، آزاد فلموں کو اُن ناظرین تک پہنچاتا ہے جو انہیں تلاش کر رہے ہیں، مگر شاید اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ کمرہ خود ہے۔ آج کے حبس زدہ ماحول میں، جہاں رائے پر پہرے ہیں اور لوگ اپنے خیالات دل ہی میں رکھنا سیکھ گئے ہیں، کلثوم نے کامیابی کے ساتھ ایک ایسی فضا، ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی ہے، اور جہاں ترقی پسند اور روشن خیال لوگ پہلو بہ پہلو بیٹھ کر کسی خوف یا فیصلے کے بغیر کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ اُن پرانی سیڑھیوں کے اوپرکھڑا تھیاکاڈا اپنی دیواروں میں تاریخ سموئے یہ چھوٹا سا پرانا گھر قدم رکھتے ہی آپ کو ایک خاموش سی گرمجوشی میں لپیٹ لیتا ہے۔ ایسی جگہ کا وجود ہی تھیاکاڈا اور اُس خاتون کا کارنامہ ہے جس نے اسے بنانے کی جرأت کی۔
اتوار کی شام تاریخ کے ساتھ ساتھ چلتی یہی پرانی سیڑھیاں جوشندر چگر کی فیچر دستاویزی فلم کرونز: اے سیلیبریشن کی پاکستان میں پہلی نمائش تک ہمیں لے گئیں۔ ان سیڑھیوں پر چڑھنے والوں میں سینئر صحافی اور حقوقِ نسواں کی کارکن مہناز رحمان شامل تھیں، جو سندھ میں عورت فاؤنڈیشن کی سربراہی کر چکی ہیں، اور امینہ سید بھی، جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی سابق مینیجنگ ڈائریکٹر، ادب فیسٹیول کی ڈائریکٹر اور لائٹ اسٹون پبلشرز کی بانی ہیں۔ ان کے ساتھ فن، ادب، صحافت اور فلم کی دنیا سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں جامی کے نام سے معروف فلم ڈائریکٹر جمشید محمود رضا، ادیبہ عقیلہ اسماعیل، آرٹ مؤرخ اور نقاد نیلوفر فرخ، صحافی زاہد کرانی، صائمہ سلیم، مہرین عمر، طلحہ احمد، ماریہ رباب، اور صحافی، سماجی کارکن اور بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ساز ثوبیہ علی شامل تھے
اور ان کے علاوہ فنونِ لطیفہ اور دستاویزی فلم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر اہلِ ذوق بھی اس شام کی رونق بنے
ہم نے جو دیکھا وہ ہماری زندگیوں پر حاوی ایک قدیم ترین دقیانوسی تصور کے خلاف ایک خاموش بغاوت تھی۔ اگر اس فلم کو صنف کے دائرے سے نکل کر دیکھا جائے تو اس کا پیغام اور بھی وسیع ہو جاتا ہے۔ ناظرین میں خواتین کی بڑی تعداد کے ساتھ مرد حضرات بھی موجود تھے، اور وہ بھی اس کہانی سے خود کو اسی طرح جڑا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ ہمارے معاشرے کی پدرشاہانہ سوچ نے عورت کے گرد عمر کے حوالے سے بے شمار حد بندیاں کھینچ رکھی ہیں، مگر بڑھاپے میں یہی معاشرہ مردوں کو بھی ایک طرف کر دیتا ہے۔ یوں یہ فلم بڑھاپے کو بحیثیتِ مجموعی مخاطب کرتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ عمر محض ایک عدد ہے
یوں یہ فلم یاد دلاتی ہے کہ عمر محض ایک عدد ہے، کیونکہ مردانہ تفاخر یعنی میل شاونزم کے زعم میں جینے والے مرد بھی ایک دن عمر کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
۔ لیکن عورت کے لیے یہ دیوار کہیں زیادہ اونچی ہے۔ کہیں نہ کہیں معاشرے نے ایک ایسا اصول لکھ دیا جس پر کسی کو اتفاق کرنا یاد نہیں: کہ عورت کی ایک عمر کی حد ہوتی ہے، اور اس کے بعد اسے اپنی ہی زندگی سے ریٹائر ہو کر گھر بیٹھ جانا چاہیے، آرام کرنا چاہیے اور کچھ بھی چاہنا چھوڑ دینا چاہیے۔ اس کے خوابوں کو فرسودہ، اس کے جسم کو ڈھلتا ہوا قرار دے دیا جاتا ہے، اور عوامی زندگی میں اس کی جگہ خاموشی سے مٹ جاتی ہے۔ کرونز اس اصول کو ماننے سے انکار کرتی ہے، اور اس کے تخلیق کار اسے “بڑھاپے اور نمایاں ہونے کا ایک پُرمسرت اور باغیانہ جشن” کہتے ہیں۔

فلم کا عنوان بذاتِ خود ایک بازیابی ہے۔ آج “کرون” ایک تحقیر آمیز لفظ ہے، پریوں کی کہانیوں کی بدی والی بڑھیا، مگر “کرون” اور “ہیگ” جیسے الفاظ کبھی دانائی اور طاقت کے معنی رکھتے تھے۔ کرون وہ دانا بزرگ عورت تھی جس کے تجربے پر اس کی برادری بھروسہ کرتی تھی، یہاں تک کہ وقت اور تعصب نے اس احترام کو تمسخر میں بدل دیا۔ یہ فلم وہ لفظ واپس لیتی ہے، اور اس کے ساتھ وہ وقار بھی جو کبھی اس کا حصہ تھا۔ جس تعصب کا یہ سامنا کرتی ہے اس کا ایک نام ہے، ایج ازم یعنی عمر کی بنیاد پر تعصب، اور یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی گلوبل رپورٹ آن ایج ازم کے مطابق، جو 2021 میں عالمی ادارۂ صحت اور اقوامِ متحدہ کے تین دیگر اداروں نے جاری کی، دنیا میں ہر دو میں سے ایک شخص عمر کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتا ہے۔ عورت کے لیے یہ بوجھ دوہرا ہے: سفید بالوں والا مرد باوقار کہلاتا ہے، جبکہ سفید بالوں والی عورت سے کہا جاتا ہے کہ اب ایک طرف ہو جائے۔ پاکستان میں، جیسا کہ پورے جنوبی ایشیا میں، بزرگ عورت کو بزرگ کی حیثیت سے عزت تو ملتی ہے، مگر اپنی خواہشات اور عزائم رکھنے والی ایک انسان کے طور پر شاذ و نادر ہی دیکھا جاتا ہے۔ اور فلم کے مطابق ایج ازم کی سب سے نقصان دہ شکل وہ ہے جو عورتیں خود اپنے خلاف اختیار کر لیتی ہیں: وہ دھیمی سی اندرونی آواز جو کسی اور کے کہنے سے بہت پہلے ہی کہہ دیتی ہے کہ “میں اس کے لیے بہت بوڑھی ہو چکی ہوں”۔
مارچ 2020 سے پانچ برس تک مشاہداتی انداز میں فلمائی گئی یہ 67 منٹ کی فلم بالی وُڈ رقص کی رنگین دنیا اور میلبرن کے آزاد تھیٹر کے پس منظر میں تین خواتین کی کہانیاں حقیقی وقت میں سامنے لاتی ہے، اور دکھاتی ہے کہ جب ایک عورت جرأت سے اپنے خواب کا پیچھا کرتی ہے تو اس کی لہریں دوسری کی زندگی تک پہنچتی ہیں۔ بالی وُڈ رقص کی شوقیہ طالبہ 72 سالہ کیرن کُوسک بچپن سے ایک ہی خواب دل میں بسائے ہوئے تھیں: تاج محل کے سامنے کھڑے ہونا۔ جب فلم پہلی بار ان سے ملتی ہے تو یہ خواب بہت دور دکھائی دیتا ہے۔ ہفتہ وار ڈانس کلاس اور اس سے جنم لینے والی دوستیوں کے سہارے وہ آہستہ آہستہ اپنی صحت، توانائی اور زندگی کی چمک دوبارہ پا لیتی ہیں، اور اکتوبر 2023 میں، ستر کی دہائی میں، بالآخر ہندوستان کا سفر کرتی ہیں۔ ان کی کہانی اپنے تمام نشیب و فراز کے ساتھ فلم کے سب سے جذباتی لمحات سموئے ہوئے ہے، اور فلم سازوں کے الفاظ میں “ہر عمر میں ایک خواب کی طاقت” کا ثبوت بن جاتی ہے۔

باسٹھ سالہ نیٹلی گیمسو اسٹیج کے لیے کوئی نیا نام نہیں۔ نمیبیا میں پیدا ہونے اور یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن سے ڈرامے کی تعلیم پانے والی نیٹلی نے جنوبی افریقہ میں اپنے سولو کیبرے شوز سے مداحوں کا حلقہ بنایا، پھر ایک دہائی نیویارک میں گزاری جہاں اوک روم اور رشین ٹی روم میں گایا اور بیک اسٹیج بسٹرو ایوارڈ اور بہترین خاتون گلوکارہ کا میک ایوارڈ جیتا۔ آسٹریلیا میں وہ میری پاپنز، بیری کوسکی کی ومن آف ٹرائے اور باز لرمن کی اسٹرکٹلی بال روم میں جلوہ گر ہوئیں، اور ڈرامہ سیریل نیبرز میں جین بارٹن اور فلم علیز ویڈنگ میں فاطمہ کا کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود ساٹھ کی دہائی میں کردار ملنا بند ہو جاتے ہیں، ایک ایسی صنعت میں جو بزرگ خواتین کو حاشیے پر دھکیل دیتی ہے۔ کسی کردار کا انتظار کرنے کے بجائے وہ اپنا وَن وومن شو خود لکھتی اور اسٹیج کرتی ہیں، جو تھیٹر میں ایج ازم کا مزاح اور جرأت سے بھرپور جواب ہے، اور کیمرہ اس شو کو پہلے خیال سے افتتاحی رات تک، نیٹلی کے اپنی شناخت اور قدر کے بارے میں سوالات سمیت، ساتھ لے کر چلتا ہے۔
ان کے گرد فلم کی معاون کاسٹ رقص کرتی ہے: میلبرن میں بزرگوں کی بالی وُڈ ڈانس کلاس، ستر کے پیٹے کی زندہ دل خواتین جو ہر ہفتے شوخ ہندوستانی لباس میں ناچنے، چاق و چوبند رہنے اور زندگی سے لطف اٹھانے کے لیے ملتی ہیں۔ قریبی، اطمینان بھری گفتگو میں وہ لفظ “کرون” کو الٹ پلٹ کر دیکھتی ہیں اور اسے اپنا لیتی ہیں، اور کیمرہ کلاس اور پسِ پردہ ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو قید کرتا ہے جن سے وہ ایک دوسرے کا خیال رکھتی ہیں۔ ان میں سے ہر کہانی ایک دقیانوسی تصور کو توڑتی ہے: کہ بزرگ عورتیں کمزور ہوتی ہیں، کہ ان کے خوابوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے، اور کہ اسٹیج صرف جوانوں کا ہے۔
فلم کی آخری کہانی کیمرے کے پیچھے کھڑی عورت کی ہے۔ اپنی چالیس کی دہائی کے آخر میں جوشندر چگر نے فیچر فلم بنانے کے اپنے دیرینہ خواب کا پیچھا کیا، اور فلم بنانے کے عمل ہی سے فلم کا پیغام سچ ثابت کر دیا۔ کراچی سے ان کا رشتہ اس سے بھی گہرا ہے۔ ہندوستان میں پیدا ہونے اور نائیجیریا اور آسٹریلیا میں پرورش پانے والی چگر کبھی اسی شہر میں رہیں اور کام کیا، ناپا میں موومنٹ پڑھائی اور ٹیلی وژن اور میوزک ویڈیوز کی کوریوگرافی کی، جن میں زیب اور ہانیہ کا گیت “اعتبار” بھی شامل ہے۔ اپنے الفاظ میں وہ کہانی گوئی، خواتین کو بااختیار بنانے، لوگوں کو ہنسانے اور لیبلز کی مزاحمت کی شیدائی ہیں۔ وہ بیس برس سے رقص اور تھیٹر سے وابستہ ہیں، 2018 سے بزرگ برادری کے ساتھ کام کر رہی ہیں، اور حال ہی میں بین الثقافتی شناخت اور کہانی گوئی پر پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔ اسی بالی وُڈ کلاس پر مبنی ان کی پہلی مختصر دستاویزی فلم مور دین کیوٹ نے نیویارک کے ریل سسٹرز آف دی ڈائسپورا فلم فیسٹیول 2022 میں بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ جیتا اور میلبرن، لندن، ممبئی، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے فیسٹیولز کے لیے منتخب ہوئی۔ ان کی پہلی فیچر فلم کرونز کی ہدایت کاری، پروڈکشن اور عکس بندی خود چگر نے کی، جبکہ جین ایلن ایگزیکٹو پروڈیوسر، لوسی پاپلنسکا ایڈیٹر، ایریکا ایم مارٹینز کریئیٹو پروڈیوسر، ایمی ایوارڈ یافتہ جیکی ٹرنور امپیکٹ پروڈیوسر، تھامس “سوپ” کیمبل موسیقار، اور پاکستانی دستاویزی فلم ساز تزئین باری کنسلٹنگ ایڈیٹر ہیں۔

فلم، فن اور تھیٹر ہمیشہ سے معاشرے کو آئینہ دکھانے اور اسے وہ دکھانے کے مؤثر ترین ذرائع رہے ہیں جسے وہ نظرانداز کرنا چاہتا ہے، اور کرونز بغیر کسی وعظ کے یہی کرتی ہے۔ یہ کبھی بوجھل نہیں ہوتی: رنگ، موسیقی اور حرکت سے بھرپور، کرداروں اور جہتوں سے مالا مال، جہاں ہر عورت اپنی کہانی ساتھ لاتی ہے اور جب سناتی ہے تو ایسے سچے جذباتی لمحات جنم لیتے ہیں جن پر ناظرین ہنستے بھی ہیں، دکھ بھی محسوس کرتے ہیں، اور بار بار ان میں اپنا عکس بھی دیکھتے ہیں۔ اس فلم کے ذریعے جوشندر چگر نے اُس شیشے کی چھت پر ضرب لگائی ہے جو عمر عورت کی زندگی پر تان دیتی ہے، اور جب ناظرین اُن پرانی سیڑھیوں سے اتر کر کلب روڈ کے شور میں واپس آئے تو ان کا پیغام بھی ان کے ساتھ تھا: عورت کے خوابوں کی کوئی میعاد نہیں ہوتی، اور اس کا وقت کبھی ختم نہیں ہوتا۔ فلم کے اصرار کے مطابق، یہ تو بس اُس کا وقت ہے۔
