پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور اس کے تمام مضافاتی علاقوں میں علی الصبح نمازِ فجر کے بعد بادلوں کی گرج چمک کے ساتھ شروع ہونے والی موسلادھار بارش کا زوردار سلسلہ تاحال جاری ہے، جس نے شہر کے موسم کو یکسر بدل کر خوشگوار اور خنک بنا دیا ہے۔ شدید اور تیز رفتار بارش کے باعث فضا میں خنکی کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے قبل از وقت ہلکی گرم چادروں اور جیکٹس کا استعمال شروع کر دیا ہے، تاہم دوسری جانب نشیبی علاقوں اور مرکزی شاہراہوں پر نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہونے سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے جاری کردہ تازہ ڈیٹا کے مطابق اس وقت صوبائی دارالحکومت کا موجودہ درجہ حرارت نمایاں کمی کے بعد 23 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے، جبکہ دن بھر کم سے کم درجہ حرارت 19 اور زیادہ سے زیادہ 26 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے واضح پیشگوئی کی ہے کہ آسمان پر گہرے بادلوں کا ڈیرا برقرار رہے گا اور وقفے وقفے سے مزید چند گھنٹے بادل برسنے کا امکان موجود ہے۔
شہر کی اہم ترین شاہراہوں بشمول مال روڈ، کینال روڈ، گلبرگ، لکشمی چوک اور تاج پورہ کے مختلف مقامات پر گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہو جانے سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قطاریں لگ گئیں اور روزمرہ ٹریفک کی روانی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ واسا (WASA) اور بلدیاتی اداروں کا عملہ بھاری مشینری، سکشن پمپس اور ڈی واٹرنگ سیٹس کے ہمراہ ہنگامی بنیادوں پر پانی کے فوری اخراج کے لیے فیلڈ میں متحرک نظر آ رہا ہے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں آسانی فراہم کی جا سکے۔ ٹریفک وارڈنز بھی مختلف چوراہوں پر گیلے راستوں پر پھنسے مسافروں کی مدد میں مصروف ہیں، جبکہ سٹی ٹریفک پولیس نے بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں پر موجود شدید پھسلن اور آئل گرنے کی وجہ سے دو پہیوں والی گاڑیوں کے پھسلنے کے امکانات بڑھ چکے ہیں، لہٰذا شہری انتہائی سست رفتاری سے ڈرائیونگ کریں اور ہیلمٹ کا لازمی استعمال یقینی بنائیں۔
بارش کا یہ دائرہ کار صرف شہری حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ پنجاب کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم موٹرویز اور ہائی ویز بھی اس کی لپیٹ میں آ چکی ہیں۔ موٹروے پولیس سنٹرل ریجن کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق موٹروے ایم 2 ساؤتھ پر کوٹ مومن سے لے کر کالا شاہ کاکو تک، موٹروے ایم 3 پر فیض پور سے جڑانوالہ اور ننکانہ سے مرید والا سیکشنز تک، اور لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم 11 پر بارش کے باعث ٹریکس پر شدید پھسلن پیدا ہو چکی ہے، جبکہ قومی شاہراہ این 5 کے اوکاڑہ سیکٹر میں بھی بوندا باندی سے حدِ نگاہ متاثر ہوئی ہے۔ موٹروے پولیس نے تیز رفتار مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیورز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ بارش کے دوران اگلی گاڑی سے معمول کے مقابلے میں دوگنا فاصلہ رکھیں، فوگ لائٹس آن رکھیں، مقررہ رفتار سے کہیں کم پر گاڑی چلائیں اور اچانک سخت بریک لگانے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا گاڑی بے قابو ہونے کے خطرے سے مکمل محفوظ رہا جا سکے۔
